Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts

Sunday, January 27, 2019

جنتر منتر دھاگے شاگے جادو ٹونے والوں نے

جنتر منتر دھاگے شاگے جادو ٹونے والوں نے
تیری خاطر کیا کیا سیکھا تجھ کو کھونے والوں نے

ایک طلسمی سرگوشی پر میں نے مڑ کر دیکھا تھا
مجھ کو پتھر ہوتے دیکھا پتھر ہونے والوں نے

اچھے کی امید پہ کتنے مشکل دن کٹ جاتے ہیں
خواب محل کے دیکھے اکثر خاک پہ سونے والوں نے

کتنی ماوں نے بچوں کو باتوں میں الجھایا تھا
گلیوں میں آوازیں دیں جس وقت کھلونے والوں نے

ایک طرف تو یادیں تھیں اور ایک طرف دیوان میر
دیکھ فضا افسردہ کردی کرب سے رونے والوں نے

اسم - یار کا ورد وظیفہ کر کے وقت گذارا ہے
اک تسبیح بنا دی تیری یاد پرونے والوں نے.. 

Sunday, July 1, 2018

Waqt Ki Bheed Mein Hargiz Nahi Khone Dungi

وقت کی بھیڑ میں ہرگز نہیں کھونے دوں گی،
میں تجھے اور کسی کا نہیں ہونے دوں گی..

تونے چھینی ہیں مری آنکھوں سے میری نیندیں،
میں بھی اب چین سے تجھ کو نہیں سونے دوں گی..

تو مجھے بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں،
تجھ کو اوروں کے خیالوں میں نہ کھونے دوں گی..

یہ مرا دیش ہے اس دیش کے ہر آنگن میں،
بیج نفرت کے کسی کو نہیں بونے دوں گی..

میں ہوں مزدور کی بیٹی یہ قسم ہے میری،
اپنی اولاد کو پتھر نہیں ڈھونے دوں گی..

پھول کو رکھوں گی سینے سے لگاکر نکہت،
میں اُسے کانٹوں کے بستر پہ نہ سونے دوں گی.!!

نکہتؔ امروہی

Sharmati Hai Itrati Hai Ghabrati Hai Aurat

شرماتی ہے اتراتی ہے گھبراتی ہے عورت، 
ہر رنگ میں ہر روپ میں ڈھل جاتی ہے عورت.. 

دل موم کا رکھتی ہے تو لوہے کے ارادے،
وقت آئے تو تلوار بھی بن جاتی ہے عورت..

ماں بیٹی بہن بیوی ہر اک روپ میں ڈھل کر،
فرض اپنا نبھانے میں بکھر جاتی ہے عورت..

آندھی کا یہ رُخ موڑ دے طوفاں کو پلٹ دے، 
اپنوں کے لئے موت سے لڑ جاتی ہے عورت..

لمحوں میں بدل جاتے ہیں پھر جنگ کے حالات،
جب مرد کی امداد کو آجاتی ہے عورت..

دیواریں جو آنگن میں اٹھا لیتے ہیں بیٹے،
اُس دن سے کئی حصوں میں بٹ جاتی ہے عورت..

ہوجاتے ہیں مصروف جو سب گود کے پالے،
بس گھر میں اکیلی یہاں رہ جاتی ہے عورت.!!

(ڈاکٹر) نسیم نکہتؔ

Kahin Din Guzar Gaya Hai Kahin Raat Kat Gayi Hai

کہیں دن گزر گیا ہے کہیں رات کٹ گئی ہے،
یہ نہ پوچھ کیسے تجھ بن یہ حیات کٹ گئی ہے..

یہ اداس اداس موسم یہ خزاں خزاں فضائیں،
وہی زندگی تھی جتنی ترے ساتھ کٹ گئی ہے.. 

نہ تجھے خبر ہے میری نہ مجھے خبر ہے تیری، 
تری داستاں سے جیسے مری ذات کٹ گئی ہے.. 

یہ ترا مزاج توبہ یہ ترا غرور توبہ،
تری بزم میں ہمیشہ مری بات کٹ گئی ہے..

ترے انتظار میں میں جلی خود چراغ بن کر،
تری آرزو میں اکثر یونہی رات کٹ گئی ہے..

نہ وہ ہم خیال میرا نہ وہ ہم مزاج میرا،
پھر اسی کے ساتھ کیسے یہ حیات کٹ گئی ہے.. 

یہ کتاب قسمتوں کی لکھی کس قلم نے نکہتؔ، 
کہیں پر تو شہ کٹی ہے کہیں مات کٹ گئی ہے.!!

(ڈاکٹر) نسیم نکہتؔ

Sunday, April 1, 2018

ڈوبے ہووں کو ہم نے' بٹھایا تھا اور پھر

ڈوبے ہووں کو ہم نے' بٹھایا تھا اور پھر
کشتی کا بوجھ کہہ کے'-- اتارا ہمیں گیا..

ڈوبے ہووں کو ہم نے' بٹھایا تھا اور پھر

ڈوبے ہووں کو ہم نے' بٹھایا تھا اور پھر
کشتی کا بوجھ کہہ کے'-- اتارا ہمیں گیا..

Thursday, March 29, 2018

مجھ کو تسلیم تیری ساری ذہانت لیکن

مجھ کو تسلیم تیری ساری ذہانت لیکن
مجھ جاہل کو کبھی تُو نہ سمجھ پائے گا...

Wednesday, March 7, 2018

کیا تم بھی شام کی دہلیز پہؔ

کیا؟ ---- تم بھی--- شام کی دہلیز پہؔ ---
اک آس کا دیپ جلاتے ہو ---
اور کسی برگ آوارہ کی آہٹ پر ---
دروازے کی جانب جاتے ہو ---
کیا ؟ ---- تم بھی ---
درد چھپانے کی کوشش کرتے کرتے ---
اکثر ---- تھک سے جاتے ہو ---
اور بن کارن ----- مسکاتے ہو ---
کیا؟ ---- تم بھی --- نیند سے پہلے پلکوں پر ---
ڈھیروں خواب سجاتے ہو ---
یا پھر --- بے خواب جزیروں میں ---
روتے روتے سو جاتے ہو ---
کیا ؟ ---- تم بھی ------ !!

Thursday, February 22, 2018

Main Zindagi Ki Tamanna Mein Mar Nahi Sakti

میں زندگی کی تمنا میں مر نہیں سکتی
کہ حادثاتِ زمانہ سے ڈر نہیں سکتی

وہ فیصلہ جو مجھے آپ سے جدا کر دے
وہ فیصلہ میں کسی طور کر نہیں سکتی

ترے جمال کا چھایا ہے اس طرح جادو
مری نگاہ کسی پر ٹھہر نہیں سکتی

نجانے کیسے گذاروں گی میں اسے تنہا
وہ زندگی جو ترے بن گذر نہیں سکتی

گذارنا ہے اسے اب سنوارنا کیا ہے
یہ زندگی جو کبھی اب سنور نہیں سکتی

تری نگاہِ کرم کے بنا مرے مولا !
مری حیات کی صورت نکھر نہیں سکتی

بھرا ہی رہتا ہے پانی ہمیشہ آ نکھوں میں
ندی یہ اشکوں کی شاید اتر نہیں سکتی

رہے گی یاد تمہاری سدا مرے دل میں
غبار بن کے ہوا میں بکھر نہیں سکتی

خدا گواہ بنا تھا بوقتِ عہدِ وفا
میں اپنے عہدِ وفا سے مکر نہیں سکتی

Ranj O Alam Ke Dhhol Baja Kar

Ranj-o-alam Ke Dhhol Baja Kar, Chahat Ka Kashkol Uthha Kar,  Dar Dar Phirna Theek Nahin Hai  Suno Mohabbat Bheekh Nahin Hai.! रन्ज-ओ-अलम के ...